حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف قلمکار حجت الاسلام مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری نے ممتاز اہلسنت عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں علم، جرأت، حق گوئی، اتحادِ امت اور اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی روشن علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کی رحلت سے عالمِ اسلام ایک بے باک علمی و فکری شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔
تعزیتی پیغام حسب ذیل ہے:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کبھی کبھی تاریخ کے آسمان سے ایسا ستارہ غروب ہوتا ہے کہ صرف ایک گھر، ایک ادارہ یا ایک حلقۂ درس ہی نہیں بلکہ پورا علمی افق تاریکی کا احساس کرنے لگتا ہے۔ کچھ شخصیات وقت کی قید میں نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے عہد کی آواز، اپنی ملت کا شعور اور اپنے زمانے کا ضمیر بن جاتی ہیں۔ جب وہ رخصت ہوتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے علم کا ایک روشن باب بند ہوگیا، فکر کا ایک چراغ بجھ گیا اور جرأتِ اظہار کی ایک توانا صدا خاموش ہوگئی۔
آج ایسی ہی ایک خبر نے دل کو غم و اندوہ سے بھر دیا۔ کاش یہ خبر غلط ہوتی، کاش یہ محض ایک افواہ ثابت ہوتی، لیکن تقدیر کے فیصلے کے آگے سب کو سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ ان معدودے چند علماء میں سے تھے جنہوں نے علم کو محض کتابوں کے اوراق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے امت کی بیداری، ملت کے درد، مظلوموں کی حمایت اور حق گوئی کی قوت میں ڈھال دیا۔ عربی و اردو دونوں زبانوں پر غیر معمولی عبور، حدیث و علومِ اسلامیہ میں گہری مہارت، تدریس میں کمال، دعوت میں اخلاص اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل پر بے چین دل ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔
ان کی درسگاہ صرف اسباقِ حدیث کا مرکز نہیں تھی بلکہ فکر و تحقیق کی آبیاری کا سرچشمہ تھی۔ وہ طلبہ کو دلیل کی روشنی میں سوچنے، تحقیق کرنے اور حق کو پہچاننے کا حوصلہ دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہزاروں شاگرد آج دنیا کے مختلف خطوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
ان کی اصل شناخت صرف علم نہیں بلکہ حق گوئی تھی۔ انہوں نے کبھی مصلحت کو حق پر ترجیح نہیں دی۔ مخالفتوں، فتوؤں، طعن و تشنیع اور کردار کشی کے باوجود ان کے قدم متزلزل نہیں ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا، مگر یہی انبیاء، صدیقین اور صالحین کا راستہ ہے۔
انہوں نے اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو ایمان کی روح قرار دیا اور غدیر، کربلا، خلافت، امامت اور تاریخِ اسلام جیسے اہم موضوعات پر اپنے مطالعے اور تحقیق کی روشنی میں بے باک اظہارِ خیال کیا۔ مخالفتوں کے باوجود انہوں نے کبھی خاموشی اختیار نہیں کی اور حق گوئی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں حضرت ابوذر غفاریؓ کی سیرت کو نمونۂ عمل بنایا۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، مظلوموں کا ساتھ دینا اور رضائے الٰہی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھنا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔
ان کی خطابت امت کے درد کی ترجمان اور ان کا قلم اصلاحِ امت کی تڑپ سے لبریز تھا۔ فلسطین، یمن، عراق، شام اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے مسائل پر وہ ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔ وہ مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر تنقید کرتے اور استکبار کے مقابلے میں مزاحمت اور خودداری کی حمایت کو امت کی عزت کا ضامن قرار دیتے تھے۔ بالخصوص ایران کی استقامت اور سامراجی دباؤ کے سامنے اس کے ثابت قدم مؤقف کو وہ امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ عزت اور حوصلے کی علامت سمجھتے تھے۔
انہوں نے مدارس اور تعلیمی ادارے قائم کیے، ہزاروں طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی، علومِ قرآن، حدیث، دعوت اور اسلامی فکر پر گراں قدر تصانیف چھوڑیں اور اپنی پوری زندگی علم، تعلیم، دعوت اور اصلاحِ امت کے لیے وقف کردی۔
آج وہ اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوچکے ہیں۔ اہلِ علم ایک مخلص معلم، شاگرد ایک شفیق مربی اور امت ایک بے باک آواز سے محروم ہوگئی ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور، رحمت اور سکینت کا گہوارہ بنائے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے جوار میں جگہ عطا فرمائے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو صدقۂ جاریہ قرار دے، ان کے شاگردوں اور علمی آثار کو قیامت تک زندہ رکھے اور تمام پسماندگان و اہلِ علم کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
وہ اس دنیا سے رخصت ضرور ہوگئے، مگر اہلِ حق کی تاریخ میں ان کا نام علم، استقامت، جرأت، اخلاص اور اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے عنوان سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔









آپ کا تبصرہ